مشہور اشاعتیں

بدھ، 23 جون، 2021

میت کے ساتھ کی جانے والی بدعتیں ۔

 بدعت کی اصطلاحی تعریف:دین اسلام میں ثواب کی نیت سے کسی چیز کا اضافہ جس کی مشروعیت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو بدعت کہلاتا ہے ۔آپﷺکا ارشاد ہے:من احدث فى امرنا هذا ما ليس منه فهو رد.(متفق عليه)

  جنازہ اور میت کے بارے میں سارے لوگ جہالت اور اندھی تقلید میں پڑے ہیں ۔فرض کو چھوڑ کر بدعت کی راہ اختیار کر رہیں ہیں جو کہ گمراہی کی راہ ہیں اور یہ راستہ جہنم کا راستہ ہے ۔

                 آج معاشرے میں جو میت کے ساتھ بدعتیں کی جاتی ہیں وہ چند یہ ہیں:-

1-موت سے غافل ہوجانا: موت کو یاد نہ کرنا حالانکہ موت ایک نصیحت ہے۔

2-وصیت لکھنے کا کوئی اہتمام نہ کرنا : لوگ وصیت لکھنے کا کوئی اہتمام نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی لکھنا چاہتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ موت بہت دور ہے ابھی سے مرنے کی کیا فکر کررہے ہو وغیرہ ۔جبکہ آپﷺوصیت لکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔

3-واجب چھوڑ کر بدعت کی طرف لپکنا:مردے کو دفن کرنے کے بعد لوگ فورا تعزیت اور دعوت کی طرف دوڑپڑتے ہیں ۔مردے کی وصیت اور اس کا قرض پورا کرنے سے غافل ہوجاتے ہیں ۔معلوم ہونا چاہیے کہ قرض کی وجہ سے مومن کی روح معلق رہتی ہے ۔

4-قرآن خوانی کرانا اور سورہ یاسین کا خاص پڑھنے کا انتظام کرنا:کی وفات سے لیکر اس کی تجہیز وتکفین تک قرآن خوانی کرنا یا اسی طرح روح قبض کے وقت سورہ یاسین کا ختم کرانا،اس کے لئے کرایہ پر پڑھنے والوں کو طلب کرنا۔

5-نوحہ کرنا ،چیخنا، چلانا،گریبان پھاڑنا،منہ نوچنااور اللہ کی تقدیر پر اعتراض کرنا ۔

6-قبرستان میں فرض نماز ادا کرنا: آپ ﷺسے صریح حدیث مروی ہے:میرے لیے ساری روۓ زمین مسجد بنائی گئی ہے سواۓقبرستان اور حمام کے۔اسی طرح دوسری حدیث ہے آپ ﷺنے فرمایا قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا، دعا کرنا،قرآن پڑھنا یہ سب شرک کے وسائل میں سے ہیں، البتہ جنازہ کی نماز قبرستان میں پڑھی جاسکتی ہے ۔

7-تاخیر سے جنازہ ادا کر نا:بعض لوگ اپنے قریبی رشتے داروں کے انتظار میں یا ختم قرآن کے انتظار میں جنازہ میں تاخیر کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں سنت یہ ہے کہ جنازہ میں جلد بازی سے کام لیا جائے اور رشتہ دار وغیرہ جب پہنچیں تو قبر پر جا کر نماز جنازہ ادا کر لیں ۔

8-جنازہ کی نماز کے طریقے سے غافل ہونا۔

9-جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا۔

10-جنازے کے بارے میں غفلت برتنا اور اس کے اجروثواب کی پرواہ نہ کرنا ۔آپ ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص جنازہ میں حاضر ہوا اورنماز ادا کی تو اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو دفن تک حاضر رہا تو اس کے لئے دو قیراط ہے پوچھا گیا دو قیراط کیا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا:دو بڑے پہاڑ کی مانند۔

11-چار ماہ سے زائد کا حمل گرجانے پر جنازہ ادا نہ کرنا۔4سے زائد ماہ کے حمل میں روح پھونک دی جاتی ہےاس لئے بہتر یہ ہے کہ اسے غسل دیا جائے، اس کی جنازہ پڑھی جاۓ اور مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کیا جائے ۔البتہ چار ماہ سے قبل پر جنازہ نہیں ہے

جمعہ، 4 جون، 2021

کیا ‏مسلمان عورت ‏ملازمت ‏کر ‏سکتی ‏ہے؟؟

کاتبہ:آسیہ محمدی ۔۔

تربیت اولاد میں عورت کا کردار 

         ماں کی گود بچہ کا سب سے پہلا اسکول ہے۔اسکی پہلی معلمہ آسکی ماں ہے اور اس کا پہلا سبق وہ لوری ہے جو ماں اپنے بچے کو ایام شیر خوارگی میں دیتی ہے۔یہ اسکول جتنا صاف ستھرا ہوگا اس کی معلمہ (ماں)جتنی نیک سیرت،پاکیزہ اطوار اور اسلامی جذبات کی حامل ہوگی اور اس کے سبق (لوری)میں جس حساب سے اخلاص اور خیرخواہی ہوگی اسی حساب سے بچے کی ذہنی نشونما اور اس کے کردار کی تربیت ہوگی ۔اس لیے ضروری ہے کہ اس معلمہ اول کی صحیح تعلیم و تربیت ہو اس کے دل و دماغ کا تزکیہ  و تتقیہ ہو، تاکہ اس کے گود میں پلنے والا بچہ بھی صحیح ہو،اسے ایک صحیح ماحول اور صحیح سانچہ میسر آجائے جس میں وہ اپنے اخلاق و کردار کو ڈھال سکے اور دل و دماغ کی اصلاح و تطہیر کرسکے۔
           

             مسلمانوں میں یہ مدرسہ اول جب تک صحیح،فعال اور مؤثر رہا ان کے نونہال اسلامی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوتے رہے اور انہوں نے اپنے عمل و کردار اور اپنی ایمانی قوت اور حسن اخلاق کے ہتھیار سے ایک دنیا خو مسخر کرلیا اور عالم انسانیت میں اسلامی تہذیب کا جھنڈا لہرا دیا۔ صرف باہرہی فتوحات کے جھنڈے نہیں گاڑے،بلکہ اندر بھی مسلمان اپنی مملکت میں جسم واحد (ایک جسم)کی طرح ایک دوسرے کے ہم درد و غم خوار رہے۔بمصداق حدیث نبوی:《اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ 》"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔"
             لیکن اب بدقسمتی سے یہ خاندان حصار،جو مسلمانوں کی قوت واستحکام اور وحدت و یک جہتی کا مظہر تھا،ٹوٹ وپھوٹ کا شکار ہے،اس اسکول (تربیت گاہ) کو اجاڑا جارہاہے اور اس کی معلمہ کو تعلیمی و تربیتی کردار ادا کرنے کے بجائے معاشی جھمیلوں میں الجھایا جارہا ہے ۔اسے گھر کے بجائے،دفتروں اور کارخانوں کی زینت اور اس چراغ خانہ کو شمع محفل بنانے پر اصرار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اصل کردار سے محروم ہو جائے ۔
             
عورت آبادی کا نصف حصہ

               اس سازش کے لئے بڑے حسین جال ب‍چھاۓ گۓ،کہا جارہا ہے کہ عورت آبادی کا نصف حصہ ہے،وہ جب تک مردوں کے دوش بدوش ترقی میں حصہ نہیں لے گی،ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔اسے گھروں میں بیکار نہیں چھوڑا جاسکتا،چنانچہ اسے گھر سے باہر دھکیلا جارہاہے تاکہ وہ بھی ہر وہ کام کرے جو مرد کر رہا ہے ۔حالانکہ مساوات مرد و زن کا یہ مغربی نظریہ اسلامی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے ۔اسلام کہتا ہے کہ مرد و عورت یقینا انسانی زندگی کے دو پہیے ہیں ان دونوں کے مجموعی عمل و کردار کا نام ہی زندگی ہے دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اور ایک دوسرے کے لئے لازم ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے دونوں کو الگ الگ مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے ۔اس لئے دونوں کی صلاحیتیں بھی ایک دوسرے سے مختلف اور جداگانہ دی گئی ہیں ۔جو صلاحیتیں اللہ نے عورت کے اندر رکھی ہیں،مرد ان سے محروم ہیں ۔اور مردوں والی خصوصیات سے عورت محروم ہے ۔انسانی زندگی کا یہ نظام صحیح طریقے سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں اپنے اپنے مقصد تخلیق کے مطابق،اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔مرد کو جو صلاحیتیں اور قوتیں دی گئ ہیں ۔اس کے اعتبار سے اس کا دائرہ عمل گھر سے باہر کا میدان ہے ۔کاروبار و تجارت ہے،زراعت وباغبانی ہے،فیکٹری اور کارخانے ہیں اور امور سیاست و جہاں بانی ہیں جب کہ عورت کا دائرہ عمل اس کی فطری صلاحیتوں کے مطابق،گھر کی چار دیواری ہے،وہ گھر کے اندر رہ کر امور خانہ داری سر انجام دے،بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت اور خاوند کی خدمت کرے ۔یوں عورت مرد کو خانگی معاملات اور ذمےداریوں سے فارغ رکھے،تاکہ وہ یکسوئی سے،گھر سے باہر،کسب معاش کے لئے جدوجہد کرتا رہے اور مرد،عورت کو معاشی بکھیڑوں سے بچا کر رکھے،تاکہ وہ یکسوئی سے گھریلو کام سر انجام دے سکے۔مسلمان معاشروں میں صدیوں سے مرد اور عورت اسی انداز سے اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے آرہے ہیں،کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ عورت بیکار ہے اور گھر میں اس کی کوئی ذمےداری نہیں ہے،کیونکہ واقعتا عورت گھر میں بیکار نہیں رہتی،بلکہ مرد ہی کی طرح سارا دن مصروف جہد و سعی رہتی ہے ۔گھر کی چاردیواری کے اندر گھریلو امور سر انجام دینے والی عورت کو بیکار کہنا بہت بڑا جھوٹ اور ایک عظیم بہتان ہے ۔یہ گھریلو عورت،ملک کی ترقی میں مرد کے برابر حصہ لے رہی ہے،اگر یہ مرد کو وہ سکون خاطر اور بے فکری مہیا نہ کرے جو گھر کی طرف سے'اسے عورت اپنے گھریلو کردار کی وجہ سے مہیا کرتی ہے 'تو مرد اپنے میدان میں مؤثر اور بھرپور کردار کرنے کے قابل ہی نہیں ہوسکتا ۔مرد کی اس محنت و سعی میں جو وہ گھر سے باہر کرتا ہے یقینا عورت کا حصہ بھی شامل ہے  جو وہ گھر کے اندر رہ کر نہایت خاموشی سے اس میں ڈالتی ہے ۔۔

نعرہ مردوں کے دوش بدوش کام کرنا

               مردوں کے دوش بدوش کام کرنے والا نعرہ دراصل عورت کو اس کی نسوانی وقار سے محروم کرنا اور اسے مرد بنانا ہے'جو عورت پر ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔

عورتوں کی تکالیف 
           کیونکہ عورت کی تخلیق کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ نسل نو کی ماں بنے ۔یہ مقصد اسے بہرصورت پورا کرنا ہے 'جس کے لئے وہ نو مہینے مسلسل حمل کی تکلیف برداشت کرتی ہے اور اس کے بعد وضع حمل کا مرحلہ بھی 'جو اس کے لئے موت و حیات کی کشمکش کا مرحلہ ہوتا ہے وہ برداشت کرتی ہے 'پھر وہ دو سال تک رضاعت (دودھ پلانے)کی تکلیف بھی برداشت کرتی ہے اس کے لئے راتوں کو جاگنا پڑتا ہے 'تو جاگتی ہے 'اپنے آرام و راحت کو قربان کرتی ہے اور اپنی جان و صحت کو بھی گھلاتی ہے ۔ان تمام تکلیفوں کی وجہ سے ہی اسلام نے معاشی کفالت کا تمام تر بوجھ مرد پر ڈالا ہے اور عورت کو اس ذمےداری سے مکمل فارغ رکھا ہے لیکن مذکورہ نعرے (  مردوں کے دوش بدوش کام کرنے والا) کا مطلب ہے کہ حمل 'ولادت اور رضاعت وغیرہ کی تمام تکلیفوں کے ساتھ عورت کما کر بھی لاۓ 'اس کے لئے سڑکوں کی خاک چھانے 'دفتروں اور کارخانوں کے چکر لگاۓ اور ہر جگہ مردوں کی ہوس ناک نگاہوں کا ہدف بن کر اپنی عزت و عفت 'عصمت وتقدیس کی چادر کو بھی داغ دار کرواۓ۔یہ عورت پر ظلم نہیں تو کیا ہے؟  یہ دوہری ذمےداری عورت پر کیا اللہ نے ڈالی ہے؟ ؟نہیں 'ہر گز نہیں ۔۔یہ عورت پر ظلم ہے بہت بڑا ظلم ۔۔اللہ تعالی اس ظلم سے بری ہے۔《وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامِ لِّلْعَبِيْدِ 》حم السجده  "تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔"

عورت گھر کی ملکہ ہے 
             اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے ۔۔کمائی کرنے والی عورت کو ٹائپسٹ 'کلرک اور سٹینو گرافر قسم کی عورت کو یا پائیلٹ 'ایرہوسٹس یا سیاست چلانے والی عورت کو المراۃالصالحہ نہیں کہا بلکہ گھر کے اندر رہ کر خانگی امور سر انجام دینے والی عورت کو نیک عورت کہا ہے ۔
         اگر اسلام میں عورت کو بھی سروس 'ملازمت اور معاش وتجارت اختیار کرنے کا حکم ہوتا تو زیادہ کماؤ عورت کو بہترین عورت قرار دیا جاتا ۔اسی طرح اسے یہ حکم نہیں دیا جاتا کہ گھر میں ٹک کر رہو نہ پردے کی اتنی تاکید کی جاتی جتنی کہ اس کی تاکید ہے کیونکہ پردے کی پابندی کے ساتھ معاشی جدوجہد میں حصہ لینا نہایت مشکل ہے ۔

عورت ملازمت کی طرف کیوں؟
                اب سوال یہ ہے کہ  عورت ملازمت کی طرف کیوں راغب ہوتی ہے؟ اس کے کئی اسباب ہیں جن میں سے بعض ◀️واقعی قابل توجہ ہیں اگرچہ عمومی رویہ محض مغرب کی نقالی سے ابھرا ہے۔مغرب کی تقلید میں ہماری انتہا پسند خواتین عورتوں کی کامل آزادی کی قائل 'مردوں کی ہر قسم کی بالادستی کی مخالف اور ان کے ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی سے بیزار ہیں ۔
◀️اور ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معلوم نہیں کہ شادی کے بعد مرد حضرات کس وقت ان سے بے وفائی پر اتر آئیں ۔اور دوسری شادی کر کے پہلی بیوی کو بے سہارا چھوڑ دیں ۔
اسی طرح کسی اور وجہ سے بھی عورت اپنی معاشی کفالت کا آزاد انتظام ضروری سمجھتی ہے ۔۔
  مغربی نظریہ مساوات مرد وزن کے مطابق عورت کا مردوں کے دوش بدوش چلنے کی یہ روش جسے مادی ترقی اور خوش حالی کی ضمانت سمجھا جارہا ہے معاشرے کے لئے سخت تباہ کن ہے ۔۔

ہفتہ، 30 جنوری، 2021

الجبرا ‏کا ‏موجد ‏(محمد ‏بن ‏موسی ‏خوازرمی) ‏

کاتبہ:آسیہ محمدی۔۔۔۔۔

 محمد بن موسی خوازرمی              بغداد کے قریب ایک گاؤں "قطربل "میں محمد بن موسی کی پیدائش ہوئی ۔والدین کی گود میں فارسی اور ترکی جو ان کی مادری زبان تھی سیکھی ۔مزید علم کے لئے بغداد آۓآگے چل کر محمد بن موسی اپنی کنیت ابو جعفر اور لقب "خوازرمی "سے زیادہ مشہور ہوئے ۔
           خوازرمی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے علم الجبرا کو ایجاد کیا۔"الجبرا والمقابلۃ "کتاب لکھ کر اس نے علم ریاضی پر بڑا احسان کیا اس نے جو اصول اور ضابطے وضع کیے وہ آج تک اسکولوں کے اعلی درجات میں رائج ہیں ۔ان کی دوسری مشہور کتاب "علم الحساب "ہےاس نے ہندوستانی حساب سے استفادہ کرکے اس میں نئے اضافے کیے خوازرمی نے"صفر"کو بھی ایجاد کیا ۔جسے بعد میں انگریزی zeroکہا گیا صفر کی اہمیت و ضرورت سے سب سے پہلے خوازرمی نے ہی دنیا کا متعارف کرایا ۔
            چودھویں صدی تک یورپ میں جہالت رہی وہاں رومن ہندسے رائج تھے ۔جن کی جمع وتفریق اور ضرب و تقسیم بہت مشکل تھی۔جب خوازرمی کی ۹ویں صدی کی تحقیقات یورپ میں چودھویں صدی میں پہنچیں تو یورپ والوں کی آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔اور انہوں نے خوازرمی کی اصطلاحات کو اختیار کیا ۔
            خوازرمی کی کتابوں کالاطینی،فرانسیسی،انگریزی،روسی اور جرمنی کی زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے ۔مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس عظیم ریاضی دان اور جغرافیہ وفلکیات کے ماہر کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کسی مورخ کو معلوم نہیں ۔بعض کتابوں میں ان کی تاریخ وفات۰۵۸؀ ملتی ہے ۔۔۔۔

پیر، 31 اگست، 2020

شوہر کا برے رویے کا کیا حل ہے؟ ؟؟؟

  1. کاتبہ:آسیہ محمدی ۔۔۔۔۔


*شوہر کا برا رویہ.............. حل کیا ہے ۔۔؟؟؟*

                         اکثر اوقات جب بھی کوئی بہن مجھ سے اکیلے میں اپنے ازدواجی زندگی کے معاملات کی نصیحت لیتی ہے، بے شمار کا ایک ہی مسئلہ ہے! میرے شوہر بہت غصہ کرتے ہے ،بات بات پر بہت چڑھتے ہے، طعنہ دیتے ہے، میں تو کہوں گی دوسری ساس کا کردار با خوبی نبھانے کا شوق رکھتے ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر صبر نہیں کر پاتے ۔۔۔!

                      قسم سے میں بہت اب دل برداشتہ ہوچکی ہوں! میرا دل ایسے لگتا ہے پھٹ جائے گا ، دن میں کئی بار ایسا محسوس ہوتا مجھے دل کا دورہ ہی نہ پڑ جائے ۔۔۔ میرے جسم سے جان نکل رہی ہوتی ہے، پر انہیں میرا کوئی خیال نہیں ہے، میں نہیں برداشت کرسکتی شوہر کا یہ رویہ ، بتائے میں کیا کرو ؟  

سب سے پہلے تو دعا کریں۔ یقینا بہت زیادہ تکلیف پہنچتی ہے ایسے بداخلاقی سے آزمائے جانے پر ۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ۔

* درگزر سے کام لیں :* معاملات بہت حکمت سے کریں کہ شوہر کو مزید غصہ کرنے کی گنجائش ہی نہ ملے۔ یاد رکھیں! جو حق بات پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑے سے پیچھے ہٹ جائے اللہﷻ کا اس شخص کے لیے جنت کے گھر کا وعدہ ہے۔ 

مٹی ڈال دو :* شوہر آپ کا دل دکھائیں تو إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھیں۔ اور اس بات کو بار بار نہ سوچیں بس اپنے آپ کو مصروف کریں جیسے کہ کسی اچھے سے لیکچر سننے میں یہ اپنی پسند کا کوئی بھی کام کرلیں جتنا جلدی اپ اس دکھ کی کیفیت سے نکلے گی اتنا آپ آہستہ آہستہ کر کے بہت مضبوط عورت بن جائے گی۔ مختصرا اپنی زندگی بے مقصد نہیں گزاریں۔۔۔!

* شوہر کا مزاج سمجھیں :* شوہر جب گھر داخل ہو آپ ان کو خاص توجہ دیں۔ بہت اچھا استقبال کریں اور بتائے آپ نے کتنا انتظار کیا اور چاہت کے ساتھ ان کے کام کریں، ایسی باتوں کو شوہر کے سامنے نہ دوہرایں جن پر وہ غصہ کریں۔

شوہر کے لیے ہدایت کی دعا :* جب شوہر بہت جذباتی اور حد سے زیادہ غصہ میں ہو تو اکثر خواتین تنگ آ کر بددعا دینا شروع کر دیتی ہے، بہتر ہوگا، آپ اس وقت خاموش رہیں اور صرف خاص دعا کریں وہ بھی اپنی اور ان کی ہدایت کے لیے۔ ان کے رویے پر جلے کوڑے نہیں۔ خیر کی دعا کریں اور اچھے اخلاق سے معاملہ کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ان شاء الله ضرور حالات پہلے سے بہتری کی طرف جائے گیں۔

جتنا غصہ اتنا زیادہ خیال کریں :* اپنے آپ کو بہت organize رکھیں، سب کام طریقے اور سلیقے سے کریں۔ جن دنوں میاں زیادہ غصہ کریں آپ ان کی خدمت اور زیادہ کرنا شروع کر دیں ان کے کام first priority اوّل فہرست ہو۔ شوہر کے لاڈ اٹھائیں، ان کو hug کریں۔

* شوہر کی تعریف کریں :* جب وہ اپنی تعریف آپ سے سنے گے تو بہت اچھا محسوس کریں گے اور نتیجتاً ان کا دل چاہے گا کہ غصہ کرنا چھوڑ دیں کیونکہ ان کو آپ کی خوشی اور مطمئن رویہ مجبور کریں گا، شوہر کے اندر خود اعتمادی لائے گا کہ وہ اچھے شوہر بنیں۔

الحمدلله يارب العالمين :* شوہر میں اگر ایک خوبی بھی موجود ہے تو اپ آج سے اس پر شکر ادا ( الحمدلله ) کہنا شروع کریں، جب دل میں شکر ہوگا تو زبان پر بھی آئے گا! اور آہستہ آہستہ زندگی ایک الگ موڑ لے گی ان شاء الله ۔

 اللہﷻ سے مضبوط تعلق :*
اپنی نماز کی حفاظت کریں حقیقی معنوں میں، اپنا محاسبہ کریں، کیا میں نماز سے سکون حاصل کرتی ہوں؟ کیا مجھے نماز سے سکینت ملتی، یا جلدی جلدی پڑھی کر بس سر سے ایک بوجھ اتارا ؟ میری پیاری بہن اگر آپ کی نماز صحیح نہیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ پھر کسی بھی فتنے میں پر سکتی ہیں۔ 
اللہﷻ مومن کی حفاظت فرماتا ہے ایک نماز سے دوسری تک بے شک وہ شوہر سے لڑائی ہی کیوں نہ ہو ، اللہﷻ اس پر بھی آپ کی حفاظت فرمائے۔ سبحان الله وبحمده ؛  

کچھ تسبیح لازم پکڑ لیں :*
سارا وقت کثرت سے استغفار کریں۔
*سو 💯 مرتبہ دن میں لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير پڑھیں۔*
*سو 💯 مرتبہ لاحول ولا قوة إلا بالله پڑھیں۔*
*سو 💯 مرتبہ سبحان الله* وبحمده کی تسبیح پڑھیں۔ 
صبح شام کے اذکار کی پابندی لازمی کریں۔ 
سورہ البقرہ کی تلاوت کریں بہت برکت ہے اس سورة میں سبحان الله اور آیت ۱۰۲ کی تکرار بھی کی جاسکتی جیسے ۳ بار پڑھ لیں۔ آپ رقیہ یعنی شرعی دم کر کے گھر کا ماحول بہت خوش گوار بناسکتی ہے۔ انشاءاللہ ۔

* آزمائش :*
شوہر کی بداخلاقی بہت بڑی آزمائشی ہے۔ جن پر بیتے وہی جانتے ہے کہ کیا کچھ روز سہنا پڑتا ہے! پیاری بہن میری طرف خاص متوجہ ہوجاؤ ! ذرا سوچو کیا میں اللہ کی حدود کا خیال رکھتی ہو! میں خود اپنا جائزہ لوں کہ میں اپنے رب کے بتائے احکامات کو اپنی زندگی میں کس حد تک اپناتی ہوں! اگر فجر قضا ہوجائے تب بھی دل پھٹنے والا ہوجاتا ہے؟ جب کسی کی غیبت کرتی ہو تب بھی چکر آتے ہے؟ جب بے پردہ گھومتی ہو تو تب بھی سینا گھٹتا ہے؟ پیاری بہن ذرا سوچو یہ سب دل کی کیفیت تب ہی صرف ہوتی ہے جب شوہر دل دکھاتا ہے! الله اكبر
اپنی اصلاح کی طرف آؤ !
اگر ہم اللہﷻ کی اطاعت کریں گے تبھی شوہر کی اصلاح خود بخود آسان ہوجائے گی۔ اپنی اصلاح ہی پہلا step ہے۔

*❀ آنکھوں کی ٹھنڈک بننے والے زوج کی دعا کرنا ❀*

*رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ۝* اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے ازواج اور ہماری اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا ۔ (الفرقان:74)
آمين يا حي يا قيوم

اوپر بیان کی گئی باتوں پر عمل کرنا آسان نہیں کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ میرا مخالف مجھے اگنور کررہا ہے، بے رخی برت رہا ہے تو میں بھی بدلے میں برا رویہ رکھوں گی، مگر یاد رکھیں اگر آپ نے اپنے نفس کو مار کر اس پر عمل کر لیا جیت آپ کی ہوگی کیونکہ میرے رب کا وعدہ ہے۔

*"ادفع بالتی ہی احسن فاذ الذی بینک و بینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم :"* برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دو اس کا فائدہ یہ ہے کہ تمہارے دشمن اور تمہارے درمیان جو دشمنی ہے اللہ اسے دوستی میں بدل دے گا۔ 
 
جزاك الله خيرا كثيرا ۔۔۔!!!! 
بَارَكَ اللهُ فِیْهِ ؛

اتوار، 30 اگست، 2020

عورت کے لئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں ؟؟؟؟


*عورت کیلئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں سائنس کے دائرے میں-* 

👨‍⚕ (مرد کی منی سےعورت کے بدن میں DNA
ڈی این اے کا خلاص)-

📖 قرآنی معجزات کی ایک جھلک - 

           ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ:
🌹 ( روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے۔)

پورا واقعہ یوں ہے کہ:
الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ غیلہم نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی .

اللہ کا فرمان ہے : والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء[ البقرة:228]
 "مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں"

            اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی.اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہے، اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے.جب کوئی مرد ہم بستری کرتاہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے۔ اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں. 

         سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے،اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم، سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے، اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔

       ایک طوائف کئ لو گوں سے تعلقات بناتی ہے. جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے ۔

 اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کے لئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے۔ 

فر مان الہی ہے 😞 وا لذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر، و عشرا)[البقرة:٢٣٤]

”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“۔

 اس حقیقت سے راہ پا کرایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا۔ ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں۔ وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا ۔

جبکہ دوسرا محلہ ،جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے۔

 جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی۔اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے.

اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں ۔۔۔۔

ہفتہ، 29 اگست، 2020

کیا محرم میں خوشیاں منا سکتے ہیں اور عاشورہ کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ ؟؟؟

کاتبہ:آسیہ محمدی ۔۔۔

*روئیں وہ جو شہادت کو ناکامی سمجھتے ہیں*
*ہم جنت کے شہزادوں کا ماتم نہیں کرتے*


🔴:دس محرم کو خوشیاں منانا۔۔۔

                 کچھ لوگ شہادت حسین رضي الله عنه کے دن خوشیاں مناتے ہیں، اچھے اچھے کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں، ان ناسمجھ قسم کے جذباتی نوجوانوں کا کردار بڑا ہی گھناؤنا ہے، کچھ لوگ تو اپنی شادی کی تاریخ بھی ١٠ محرم مقرر کرتے ہیں، حالانکہ یہ خلاف معمول خوشیاں منانے کا دن نہیں ہے، اگر غم منانا روافض کے ساتھ مشابہت ہے تو خوشی منانا خوراج کے ساتھ مشابہت ہے، تو پھر خوشی کیسے جائز ہو سکتی ہے ؟ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے خوراج کو کلاب النار (جہنم کے کتے) کہا ہے۔ 

🩸 ایک اور حدیث میں آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا تھا : اگر یہ خارجی مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم ثمود کی طرح چن چن کر قتل کر دوں۔ قوم ثمود کی طرح اس لیے کہ ان پر جب عذاب الہی آیا تو ان کا کچھ نہ بچا۔ پھر مقام تامل ہے کہ ایسی قوم کے کسی منہج کی مشابہت کا کیا جواز ہے ؟ ہماری یہی گذارش ہے کہ ان دنوں کو معمول کے مطابق گذارا جائے ... 
*⚠️ عاشوراء کے دن بدعات سے بچیں…*
〽️ شیخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله فرماتے ہیں :

*”عاشوراء کے دن روزے کے علاوہ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے سب ناپسندیدہ بدعات ہیں، کسی ایک بھی امام نے انہیں پسند نہیں کیا۔“*

📔 (منهاج السنة : 151/8)
 *📜 (فضیلة الشیخ علامہ عبد الله ناصر رحمانی حفظه الله - مقدمہ "محرم الحرام اور واقعہ کربلا" للمؤلف حافظ عبدالحمید گوندل - ص : ١٤)*

*🔹یومِ عاشورہ کے روزے کی فضیلت*🔹 

✒️یوم عاشورہ کے روزے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  "میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا" *(صحیح مسلم:2746)*

*🔹یوم عاشوراء کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے روزہ کیوں رکھا🔹*

✒️ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ منورہ تشریف لائے، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ( یہ [روزہ] کیوں رکھتے ہو؟) تو انہوں نے کہا: "[اس لئے کہ ]یہ خوشی کا دن ہے، اس دن میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی، تو موسیٰ [علیہ السلام] نے روزہ رکھا" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا: (میں موسیٰ [علیہ السلام ] کیساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود بھی روزہ رکھا، اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا" *( بخاری : (1865)*

*ایک غلط فہمی کا ازالہ* :- عاشورہ کا روزہ، اس مہینے میں ہونے والی بدعات و کفریہ کام مثلاً نوحہ،ماتم،تاجیہ، شہادتِ حسن، حسین، وغیرہ کی وجہ سے نہیں رکھا جاتا ہے
جیسا کہ عوام میں یہ غلط فہمی رائج ہے۔

کیاہے وہ جو ماہ محرم میں کئے جانے والے قبیح اعمال؟؟؟ ۔

کاتبہ:آسیہ محمدی 

(ماتم اور شبیہوں کی شرعی حیثیت)
فتوی از فضيلة الشيخ مفتي ابوالحسن الخياط مبشر أحمد 


الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مصیبت کے وقت صبر کی تلقین کی ہے اور گریبان چاک کرنا ، سینہ کوبی کرنا وغیرہ صبر کے خلاف ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّـہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ﴿١٥٣﴾...البقرة
 ''اے ایمان والوں صبر اور نماز سے مدد لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''(البقرہ : ۱۵۳)

انسان کو احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب و آلام برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ صبر و صلوٰة ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین معاون ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ''مومن کے لئے ہر حال میں بہتری ہے تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر گزار رہتا ہے۔''  (تفسیر ابنِ کثیر، قرطبی )

اس آیت کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے احکامات اور مومنین کی آزمائش کا ذکر کیا ہے کہ:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّکُم بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ ﴿١٥٥﴾ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾...البقرة

''جولوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو کسی ایک چیز کے ساتھ ڈر سے اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جب ان کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ (انّا للہ و انّا الیہ راجعون) کہتے ہیں۔''(البقرہ : ۱۰۴ تا ۱۰۶)

مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ مومن آدمی کو اللہ تعالیٰ مختلف طرق سے آزماتا ہے۔ کبھی خوف و ڈر کے ذریعے ، کبھی جانوں اور مالوں کی کمی کے ذریعے اور کبھی پھلوں کے نقصانات سے۔ ایمان دار آدمی کو جب ان تکالیف میں سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بے صبری نہیں کرتا بلکہ صبر کے ساتھ ان مصائب کو برداشت کرتا ہے جو لوگ مصیبت یا پریشانی دیکھ کر بے صبری کریں اور واویلا برپا کردیں، گریبان چاک کریں، بال نوچیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشاد کے مطابق اُمت محمد سے نہیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
(( لیس منا من ضرب  الخدود و شق الجیوب و دعا بدعوی الجاہلیة.))
''جس شخص نے رخسار پیٹے اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے واویلے کی طرح واویلا کیا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(بخاری مع فتح ۱۲۳/۳، مسلم۱۶۰، نسائی۱۹/۴، مستنقی لا بن جرود۵۱۶ ، ترمذی۹۹۹، ابنِ ماجہ۱۰۸۴، احمد۳۸۶/۱،۴۳۲، بیہقی۶۴/۴)

 عشرہ محرم الحرام میں جو لوگ سیدنا علی  ؓ  ، سیدنا حسین ؓ  اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہم کا نام لے کر گلی کوچوں میں نکلتے ہیں اور گریبان چاک کرتے ہیں ، سینہ کوبی کرتے ہیں، ان کا یہ عمل قرآن و سنت کے خلاف ہونے کے علاوہ ائمہ بیت اور مجتہدین فقہ جعفریہ کے فتاویٰ کے بھی خلاف ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ قبیح عمل352 ھ دس محرم الحرام کو بغداد میں معزالدولہ شیعہ کے حکم سے جاری ہوا ہے۔ اس سے قبل اس عمل قبیح کا نام و نشان نہیں ملتا۔ تاریخ ابنِ اثیر ص ۱۹۷ پر مرقوم ہے:

''عشرہ محرم الحرام میں اس قبیح رسم کا رواج بغداد میں معزالدولہ شیعہ سے ہوا جس نے دس محرم 352ھ کو حکم دیا کہ دُکانیں بند کر دی جائیں ، بازار اور خریدو فروخت کا کام روک دیا جائے اور لوگ نوحہ کریں ، مکمل کالا لباس پہنیں، عورتیں پراگندہ ہو کر گریبان چاک کریں، پیٹتی ہوئی شہر کا چکر لگائیں۔''

ہم فقہ جعفریہ کی معتبر کتاب سے چند روایات درج کرتے ہیں:
(( عن أبی عبد اللہ قال إن الصبر  و البلاء لیأتیان إلی المؤمن  فیأتیہ البلاء وهو صبور وإن الجزع  والبلاء لیأتیان إلی الکافر فیأتیہ البلاء وہو جزوع.))
 ''امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ یقینا صبر اور آزمائش دونوں مومن پر آتے ہیں۔ مومن پر جب آزمائش آتی ہے تو وہ صبر کرنے والا ہوتا ہے اور بے صبری اور آزمائش دونوں کافر پر آتے ہیں جب س پر آزمائش آتی ہے تو وہ بے صبری کرتا ہے۔''
(فروع کافی، کتاب الجنائز۱۳۱/۱)

امام جعفر صادق کے س فتویٰ سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والا مومن ہے اور جو بے صبری کرتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔
(( قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  لفاطمة  إذا أنا مت فلا تخمشی علیَّ وجهاً ولا ترخی عليَّ شَعراً ولا تُنادي بالويل ولا تقیمی عليَّ نائحة.))
 ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنھا سے فرمایا جب میں مر جاؤں تو مجھ پر چہرہ نہ نوچنا اور نہ مجھ پر اپنے بال بکھیرنا اور نہ واویلا کرنا اور نہ مجھ پر نوحہ کرنا۔''  (فروع کافی ، کتاب النکاح ، ص۲۲۸)

(( قال أبو عبد اللہ  علیہ السلام  لا ینبغی  الصیاح علی المیت  ولا شق الثیاب.))
 ''امام جعفر صادق نے فرمایا میت پر چیخ و پکار اور کپڑے پھاڑنا جائز نہیں۔'' (فروع کافی۱۸۸/۱)

(( قال أبو جعفر من جَدّد قَبراً  أو  مَثّلَ مثالاً فقد خَرَجَ عن الإسلام .))
  ''امام باقر نے فرمایا ، جس نے قبر کی تجدید کی یا کوئی شبیہ بنائی ، وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔''  (من لا یحضر ة الفقیة باب النوادر)

(( قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  لا تلطمن خدا ولا تخمشن وجها و لا تنتفن شعرا ولا تشققن  جیبا ولا تسودن  ثوبا ولا تدعین بالویل.))
 ''رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ''رخسار ہر گز نہ پیٹنا اور نہ ہی چہرہ نوچنا اور نہ بال اکھیڑنا اور نہ گریبان چاک کرنا اور نہ کپڑے سیاہ کرنا اور نہ واویلا کرنا۔''
(فروع کافی، کتاب النکاح ص۲۲۸)

 مندرجہ ذیل فقہ جعفریہ کی پانچ روایات سے معلوم ہوا کہ فقہ جعفریہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ، امام باقر اور امام جعفر صادق وغیرہ سے روایات موجود ہیں جو اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ مصیبت کے وقت بال بکھیرنا ، چہرے پیٹنا ، سینہ کوبی کرنا، واویلا کرنا، مرثیے پڑھنا ، شبیہ بنانا ، قبروں کی تجدید کرنا ناجائز اور حرام ہیں۔ لہٰذا پنج تن کا نعرہ لگانے والوں کو مذکورہ بالا فقہ جعفریہ کے پانچ دلائل کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے باز آجانا چاہیے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” من أحدث في امرنا هذا ما ليس فيه فهو رد ( بخاری مع الفتح ٥ / ٣٠١)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول صلی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئ چیز ایجاد کی تو وہ مردود ہے”

ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ بدعتوں سے محفوظ رہیں اور سنت رسول پر چلیں ۔۔۔۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔۔۔


میت کے ساتھ کی جانے والی بدعتیں ۔

  بدعت  کی اصطلاحی تعریف :دین اسلام میں ثواب کی نیت سے کسی چیز کا اضافہ جس کی مشروعیت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو بدعت کہلاتا ہے ۔آپﷺکا ارشاد ہے...