مشہور اشاعتیں

اتوار، 26 جولائی، 2020

قربانی کے مسائل واحکام ۔۔

کاتبہ :آسیہ محمدی ۔۔۔
قربانی کے مسائل واحکام ۔۔
      Surat No 16 : سورة النحل - Ayat No 120 

اِنَّ  اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً  قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰شَاکِرًا  لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ  اِلٰی  صِرَاطٍ  مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾
وَ اٰتَیۡنٰہُ  فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ  اِنَّہٗ  فِی الۡاٰخِرَۃِ   لَمِنَ  الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۲﴾ بیشک ابراہیم پیشوا  اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے ۔  وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے شکر گزار تھے ،  اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سجھا دی تھی ۔  ہم نے اسے دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں ۔  
         اس آیت میں ابراہیم علیہ السلام کی کئ خوبیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ پیشوا اور قائد ورہنما تھے ۔حق گوئی میں،توحید و اثبات میں،شرک کی تردید میں اور جملہ خصال خیر میں وہ پیشوا اور قائد تھے،یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا
      
  ثُمَّ اَوۡحَیۡنَاۤ  اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعۡ مِلَّۃَ  اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ (سورہ نحل:123) پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں ،   جو مشرکوں میں سے نہ تھے ۔ 
 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے یہ مقام بلند یونہی نہیں عطا فرمایا بلکہ اس کی وجوہات کا تذکرہ توصیفی انداز میں اللہ تعالی نے یوں کیا  
           وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی  اِبۡرٰہٖمَ  رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ  اِمَامًا  ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ  ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ۔(سورہ بقرہ:124)
 جب ابراہیم  ( علیہ السلام )  کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا  اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا عرض کرنے لگے میری اولاد کو  فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ۔  

                 اس آیت میں امتحانوں اور آزمائشوں سے مراد احکام شریعت،مناسک حج،بیٹے کو ذبح کرنا،نمرود کی آگ میں اللہ کے خاطر ڈالا جاناوغیرہ ہیں ۔ان تمام آزمائشوں سے ابراہیم علیہ السلام گزارے گئے اور ابراہیم علیہ السلام اس میں کامیاب و کامران رہے جس کے صلے میں آپ امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے ۔۔
              آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایمان پیدا 
              آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا 


   قربانی کے اہم مسائل:
مسئلہ 1️⃣:جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہواسے چاہیے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد حجامت نہ بنوائے اور ناخن وغیرہ نہ تراشے۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کا چانددیکھنے کے بعد حجامت نہ بنوائے اور نہ ہی اپنے ناخن تراشے ۔۔( صحیح مسلم)
مسئلہ 2️⃣:قربانی کے لئے جو جانور کا انتخاب کیا جائے وہ اونٹ،گائے،بھیڑ اور بکری کے جنس سے ہونا چاہیے 
       
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ  وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا ؕ وَ  بَشِّرِ  الۡمُخۡبِتِیۡنَ ۔(سورہ حج:34) اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ اِن  چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں  سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے!
 
مسئلہ 3️⃣:قربانی کے جانور کا عیبوں سے پاک ہونا ضروری ہے مثلا لنگڑا پن،بھینگا پن انتہائی لاغر کمزور یا بیمار ہونا اسی طرح نہ کان کٹا ہو اورنہ ہی سینگ ٹوٹا ہو ۔۔۔
         حضرت براءبن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے کہ "قربانی میں چار قسم کے جانور جائز نہیں وہ جانور جو بھینگا ہو اور اسکا بھینگا پن بالکل واضح ہو۔وہ جانور جو بیمار ہو اوراس کی بیماری واضح ہو۔وہ جانور جو لنگڑا ہو اور اس کا لنگڑا پن نمایاں ہو اور انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔"(ابوداؤد،ترمذی)

مسئلہ 4️⃣:جانور کی عمر:قربانی کا جانور موٹا تازہ ہونے کے ساتھ دو دانتا ہونا ضروری ہے ۔صرف بھیڑ یا دنبہ میں گنجائش ہے کہ اگر دو دانتا نہ مل سکے تو ایک سال کا بھی کفایت کرجائے گا۔
       حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم دو دانتا جانور ہی ذبح کرو ہاں اگر تم تنگدست ہو تو ایک سال کی بھیڑ ذبح کرلو۔"

مسئلہ 5️⃣:قربانی کا وقت:قربانی کا وقت عید الاضحی کی نماز کے بعد ہے ۔لہذا نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی نہیں کرنی چاہیئے ۔

مسئلہ 6️⃣:ایک بکرا یا بکری،یا ایک بھیڑ یا دنبہ تمام گھر والوں کی طرف سے کفایت کر جاتا ہے ۔گھر کے ہر فرد کی طرف سے الگ الگ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں اگر دکھاوے کے لئے ہے تو یہ ریا کاری ہے جو کہ حرام ہے۔۔اللہ کی رضا کے خاطر قربانی کرنی چاہیے ۔۔
              قُلۡ  اِنَّ صَلَاتِیۡ  وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ   لِلّٰہِ   رَبِّ  الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙلَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا  اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۔(سورہ انعام:164۔165)
        آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں 

مسئلہ 7️⃣:گائے میں سات آدمی اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی آگئ چنانچہ ہم اونٹ میں دس اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہو گئے ۔۔(ابن ماجہ)

مسئلہ 8️⃣:نماز عید کے لئے گھر سے کچھ کھائے پیئے بغیر تکبیریں پڑھتے ہوئے عید گاہ کی طرف جائے ۔۔
          "رسول اللہ ﷺعید الاضحی میں نہ کھاتے یہاں تک کہ نماز سے لوٹیں ۔فارغ ہو کر قربانی کا گوشت کھاتے ۔۔"
                عید الاضحی میں بعد کھانے میں یہ حکمت ہے کہ کھانے پینے کے شغل میں نماز کی تاخیر ہو کر کہیں قربانی میں دیر نہ ہو جائے کیونکہ قربانی کا گوشت برکت والی شئے ہے ۔اس لئے یہ پیٹ میں پہلے جانا چاہیے اور قربانی چونکہ نماز کے بعد ہے اس لئے کھانا بھی بعد کو مسنون ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الاضحی بہت جلد پڑھتے تھے یعنی تھوڑا سا سورج آتا تو پڑھ لیتے ۔۔

مسئلہ 9️⃣:قربانی چار دن جائز ہے ۔یوم النحر( 10ذی الحجہ) اور ایام التشریق (11،12،13ذی الحجہ)۔

 مسئلہ 🔟:  ایک جانور میں قربانی اور عقیقہ کی نیت کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے ۔۔

مسئلہ 1️⃣1️⃣: قربانی کے بجائے قیمت صدقہ کرنا سنت سے ثابت نہیں ۔۔

مسئلہ1️⃣2️⃣:   حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے ۔۔

مسئلہ 1️⃣3️⃣: قربانی کا جانور تین حصوں میں بانٹنا مستحب ہے ۔ضروری نہیں ۔۔

مسئلہ 1️⃣4️⃣:  قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے ۔

مسئلہ 1️⃣5️⃣: میت کی طرف سے مستقل جانور کی قربانی کے بجائے اپنے ہی جانور میں ان کو بھی شریک کر لینا بہتر ہے ۔۔

قربانی کا حکم:

⬅️:قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جو اس کی قدرت رکھتا ہو ۔"نبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ جس کے پاس وسعت و طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی ہر گز نہ آئے" ۔۔(وضاحت:ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ قرض لیکر قربانی کرنا اچھی چیز ہے اگرچہ واجب اور ضروری نہیں ہے ۔)
⬅️بعض لوگ قرض کے بوجھ کے بہانے سال میں ایک مرتبہ دی جانے والی قربانی جیسی عبادت کو چھوڑ دیتے ہیں جبکہ انھیں قرض اتارنے کی پوری سہولت ہوتی ہے ۔لیکن وہیی اگر دنیاوی منفعت کے لئے قرض لینا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹتے ہیں ۔

قربانی کے جانور میں شرکت:

⬅️:ایک بکری تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے ۔چاہے ان کی تعداد سو یا زائد ہو تب بھی کافی ہوجائے گا ۔
⬅️:ایک بکری کئی گھرانے کی طرف سے کافی نہ ہوگی ۔ہاں اگر کسی گھر کے سارے افراد حج کر رہے ہیں تو ہر فرد کی طرف سے الگ الگ قربانی واجب ہوگی ۔

قربانی کا جانور:
⬅️قربانی صرف اونٹ،گائے،مینڈھا اور بکری ہی میں جائز ہے چاہے نر ہو یا مادہ ۔۔

⬅️قربانی کا جانور موٹا تازہ،بے عیب پاک اور عمدہ ہونا چاہیے ۔
⬅️مینڈھے کی قربانی سب سے افضل ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال مینڈھے کی قربانی دیا کرتے تھے ۔البتہ علماء نے قربانی میں جو کہ ایک نیکی کا کام ہے قیمت،گوشت اور فائدے کے لحاظ سے یہ ترتیب رکھی ہے ۔اونٹ،گائے،بکری ۔۔

⬅️ایک سے زائد قربانی جائز ہے ۔۔

جانور ذبح کرنے کے آداب:

1️⃣:جانور ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ۔

2️⃣:ذبح کرنے سے پہلے جانور کو نرمی کے ساتھ لے جائے ۔

3️⃣:ذبح کرنے سے پہلے چاقو خوب تیز کرلے ۔

4️⃣:جانور کے سامنے چاقو تیز نہ کرے۔

5️⃣:ذبح کرتے وقت جانور کو بائیں کروٹ پر لٹاۓ ۔

6️⃣:گائے،بکری اور مینڈھے کو لٹا کر ذبح کرے اور اونٹ کو کھڑا کرکے نحر کرے۔

7️⃣:جانور کو قبلہ رخ کرلے اور خود ذبح کرنے والا بھی قبلہ کی طرف منہ کرے۔

8️⃣:ذبح کرتے وقت اپنا پیر اس کے پہلو پر رکھے۔

9️⃣:افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے والا خود ذبح کرے بشرطیکہ وہ ذبح کرنا جانتا ہو۔۔۔

🔟:قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کے ساتھ یہ دعا پڑھنا بھی مسنون ہے۔اللھم ان ھذا منک و لک اللھم تقبل منا ۔۔

بعض روایتوں کی رو سے قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت انی وجھت وجھی للذی۔۔۔۔۔الآخر ۔پڑھنا بھی مستحب ہے۔۔

1️⃣1️⃣:ذبح کرتے وقت خوب طاقت اور دباؤڈال کرجلدی جلدی ذبح کرے۔

1️⃣2️⃣:ذبح کرتے وقت دوسروں سے مدد لینا بھی درست ہے ۔
کسی دوسرے شخص سے ذبح کروانا بھی درست ہے ۔

1️⃣3️⃣:جو جانور قابو سے باہر ہو کر بھاگنے لگے تو شکار کی طرح اس کے جسم کے کسی حصہ پر بسم اللہ کہہ کر  زخم لگایا جائے اور اسی زخم سے وہ مر جائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے ۔اگر زندہ مل جائے تو ذبح کرنا ضروری ہے ۔

قربانی کا گوشت اور چمڑا:

◀️گوشت خود کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے اور بچا کر رکھ بھی سکتے ہیں ۔

◀️عید کے دن قربانی کا گوشت کھا کر ابتداء کرے۔

◀️اگر کوئی نماز سے پہلے کھا لے تو کوئی گناہ نہیں ۔۔

◀️ذبح کرنے کے بعد مادہ کے پیٹ سے بچہ مردہ نکلے تو وہ حلال ہے۔

◀️قربانی کا چمڑا خود استعمال کرے یا صدقہ کرے لیکن بطور اجرت قصائی کو نہ دے۔

◀️قربانی کا چمڑا فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔۔

       اللہ ہم سب کی قربانی قبول کرےاور انھیں ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت بنائے اور تادم ہمیں صراط مستقیم پر چلائے ۔آمین ۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میت کے ساتھ کی جانے والی بدعتیں ۔

  بدعت  کی اصطلاحی تعریف :دین اسلام میں ثواب کی نیت سے کسی چیز کا اضافہ جس کی مشروعیت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو بدعت کہلاتا ہے ۔آپﷺکا ارشاد ہے...