تربیت اولاد میں عورت کا کردار
ماں کی گود بچہ کا سب سے پہلا اسکول ہے۔اسکی پہلی معلمہ آسکی ماں ہے اور اس کا پہلا سبق وہ لوری ہے جو ماں اپنے بچے کو ایام شیر خوارگی میں دیتی ہے۔یہ اسکول جتنا صاف ستھرا ہوگا اس کی معلمہ (ماں)جتنی نیک سیرت،پاکیزہ اطوار اور اسلامی جذبات کی حامل ہوگی اور اس کے سبق (لوری)میں جس حساب سے اخلاص اور خیرخواہی ہوگی اسی حساب سے بچے کی ذہنی نشونما اور اس کے کردار کی تربیت ہوگی ۔اس لیے ضروری ہے کہ اس معلمہ اول کی صحیح تعلیم و تربیت ہو اس کے دل و دماغ کا تزکیہ و تتقیہ ہو، تاکہ اس کے گود میں پلنے والا بچہ بھی صحیح ہو،اسے ایک صحیح ماحول اور صحیح سانچہ میسر آجائے جس میں وہ اپنے اخلاق و کردار کو ڈھال سکے اور دل و دماغ کی اصلاح و تطہیر کرسکے۔
مسلمانوں میں یہ مدرسہ اول جب تک صحیح،فعال اور مؤثر رہا ان کے نونہال اسلامی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوتے رہے اور انہوں نے اپنے عمل و کردار اور اپنی ایمانی قوت اور حسن اخلاق کے ہتھیار سے ایک دنیا خو مسخر کرلیا اور عالم انسانیت میں اسلامی تہذیب کا جھنڈا لہرا دیا۔ صرف باہرہی فتوحات کے جھنڈے نہیں گاڑے،بلکہ اندر بھی مسلمان اپنی مملکت میں جسم واحد (ایک جسم)کی طرح ایک دوسرے کے ہم درد و غم خوار رہے۔بمصداق حدیث نبوی:《اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ 》"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔"
لیکن اب بدقسمتی سے یہ خاندان حصار،جو مسلمانوں کی قوت واستحکام اور وحدت و یک جہتی کا مظہر تھا،ٹوٹ وپھوٹ کا شکار ہے،اس اسکول (تربیت گاہ) کو اجاڑا جارہاہے اور اس کی معلمہ کو تعلیمی و تربیتی کردار ادا کرنے کے بجائے معاشی جھمیلوں میں الجھایا جارہا ہے ۔اسے گھر کے بجائے،دفتروں اور کارخانوں کی زینت اور اس چراغ خانہ کو شمع محفل بنانے پر اصرار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اصل کردار سے محروم ہو جائے ۔
عورت آبادی کا نصف حصہ
اس سازش کے لئے بڑے حسین جال بچھاۓ گۓ،کہا جارہا ہے کہ عورت آبادی کا نصف حصہ ہے،وہ جب تک مردوں کے دوش بدوش ترقی میں حصہ نہیں لے گی،ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔اسے گھروں میں بیکار نہیں چھوڑا جاسکتا،چنانچہ اسے گھر سے باہر دھکیلا جارہاہے تاکہ وہ بھی ہر وہ کام کرے جو مرد کر رہا ہے ۔حالانکہ مساوات مرد و زن کا یہ مغربی نظریہ اسلامی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے ۔اسلام کہتا ہے کہ مرد و عورت یقینا انسانی زندگی کے دو پہیے ہیں ان دونوں کے مجموعی عمل و کردار کا نام ہی زندگی ہے دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اور ایک دوسرے کے لئے لازم ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے دونوں کو الگ الگ مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے ۔اس لئے دونوں کی صلاحیتیں بھی ایک دوسرے سے مختلف اور جداگانہ دی گئی ہیں ۔جو صلاحیتیں اللہ نے عورت کے اندر رکھی ہیں،مرد ان سے محروم ہیں ۔اور مردوں والی خصوصیات سے عورت محروم ہے ۔انسانی زندگی کا یہ نظام صحیح طریقے سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں اپنے اپنے مقصد تخلیق کے مطابق،اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔مرد کو جو صلاحیتیں اور قوتیں دی گئ ہیں ۔اس کے اعتبار سے اس کا دائرہ عمل گھر سے باہر کا میدان ہے ۔کاروبار و تجارت ہے،زراعت وباغبانی ہے،فیکٹری اور کارخانے ہیں اور امور سیاست و جہاں بانی ہیں جب کہ عورت کا دائرہ عمل اس کی فطری صلاحیتوں کے مطابق،گھر کی چار دیواری ہے،وہ گھر کے اندر رہ کر امور خانہ داری سر انجام دے،بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت اور خاوند کی خدمت کرے ۔یوں عورت مرد کو خانگی معاملات اور ذمےداریوں سے فارغ رکھے،تاکہ وہ یکسوئی سے،گھر سے باہر،کسب معاش کے لئے جدوجہد کرتا رہے اور مرد،عورت کو معاشی بکھیڑوں سے بچا کر رکھے،تاکہ وہ یکسوئی سے گھریلو کام سر انجام دے سکے۔مسلمان معاشروں میں صدیوں سے مرد اور عورت اسی انداز سے اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے آرہے ہیں،کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ عورت بیکار ہے اور گھر میں اس کی کوئی ذمےداری نہیں ہے،کیونکہ واقعتا عورت گھر میں بیکار نہیں رہتی،بلکہ مرد ہی کی طرح سارا دن مصروف جہد و سعی رہتی ہے ۔گھر کی چاردیواری کے اندر گھریلو امور سر انجام دینے والی عورت کو بیکار کہنا بہت بڑا جھوٹ اور ایک عظیم بہتان ہے ۔یہ گھریلو عورت،ملک کی ترقی میں مرد کے برابر حصہ لے رہی ہے،اگر یہ مرد کو وہ سکون خاطر اور بے فکری مہیا نہ کرے جو گھر کی طرف سے'اسے عورت اپنے گھریلو کردار کی وجہ سے مہیا کرتی ہے 'تو مرد اپنے میدان میں مؤثر اور بھرپور کردار کرنے کے قابل ہی نہیں ہوسکتا ۔مرد کی اس محنت و سعی میں جو وہ گھر سے باہر کرتا ہے یقینا عورت کا حصہ بھی شامل ہے جو وہ گھر کے اندر رہ کر نہایت خاموشی سے اس میں ڈالتی ہے ۔۔
نعرہ مردوں کے دوش بدوش کام کرنا
مردوں کے دوش بدوش کام کرنے والا نعرہ دراصل عورت کو اس کی نسوانی وقار سے محروم کرنا اور اسے مرد بنانا ہے'جو عورت پر ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔
عورتوں کی تکالیف
کیونکہ عورت کی تخلیق کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ نسل نو کی ماں بنے ۔یہ مقصد اسے بہرصورت پورا کرنا ہے 'جس کے لئے وہ نو مہینے مسلسل حمل کی تکلیف برداشت کرتی ہے اور اس کے بعد وضع حمل کا مرحلہ بھی 'جو اس کے لئے موت و حیات کی کشمکش کا مرحلہ ہوتا ہے وہ برداشت کرتی ہے 'پھر وہ دو سال تک رضاعت (دودھ پلانے)کی تکلیف بھی برداشت کرتی ہے اس کے لئے راتوں کو جاگنا پڑتا ہے 'تو جاگتی ہے 'اپنے آرام و راحت کو قربان کرتی ہے اور اپنی جان و صحت کو بھی گھلاتی ہے ۔ان تمام تکلیفوں کی وجہ سے ہی اسلام نے معاشی کفالت کا تمام تر بوجھ مرد پر ڈالا ہے اور عورت کو اس ذمےداری سے مکمل فارغ رکھا ہے لیکن مذکورہ نعرے ( مردوں کے دوش بدوش کام کرنے والا) کا مطلب ہے کہ حمل 'ولادت اور رضاعت وغیرہ کی تمام تکلیفوں کے ساتھ عورت کما کر بھی لاۓ 'اس کے لئے سڑکوں کی خاک چھانے 'دفتروں اور کارخانوں کے چکر لگاۓ اور ہر جگہ مردوں کی ہوس ناک نگاہوں کا ہدف بن کر اپنی عزت و عفت 'عصمت وتقدیس کی چادر کو بھی داغ دار کرواۓ۔یہ عورت پر ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ دوہری ذمےداری عورت پر کیا اللہ نے ڈالی ہے؟ ؟نہیں 'ہر گز نہیں ۔۔یہ عورت پر ظلم ہے بہت بڑا ظلم ۔۔اللہ تعالی اس ظلم سے بری ہے۔《وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامِ لِّلْعَبِيْدِ 》حم السجده "تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔"
عورت گھر کی ملکہ ہے
اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے ۔۔کمائی کرنے والی عورت کو ٹائپسٹ 'کلرک اور سٹینو گرافر قسم کی عورت کو یا پائیلٹ 'ایرہوسٹس یا سیاست چلانے والی عورت کو المراۃالصالحہ نہیں کہا بلکہ گھر کے اندر رہ کر خانگی امور سر انجام دینے والی عورت کو نیک عورت کہا ہے ۔
اگر اسلام میں عورت کو بھی سروس 'ملازمت اور معاش وتجارت اختیار کرنے کا حکم ہوتا تو زیادہ کماؤ عورت کو بہترین عورت قرار دیا جاتا ۔اسی طرح اسے یہ حکم نہیں دیا جاتا کہ گھر میں ٹک کر رہو نہ پردے کی اتنی تاکید کی جاتی جتنی کہ اس کی تاکید ہے کیونکہ پردے کی پابندی کے ساتھ معاشی جدوجہد میں حصہ لینا نہایت مشکل ہے ۔
عورت ملازمت کی طرف کیوں؟
اب سوال یہ ہے کہ عورت ملازمت کی طرف کیوں راغب ہوتی ہے؟ اس کے کئی اسباب ہیں جن میں سے بعض ◀️واقعی قابل توجہ ہیں اگرچہ عمومی رویہ محض مغرب کی نقالی سے ابھرا ہے۔مغرب کی تقلید میں ہماری انتہا پسند خواتین عورتوں کی کامل آزادی کی قائل 'مردوں کی ہر قسم کی بالادستی کی مخالف اور ان کے ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی سے بیزار ہیں ۔
◀️اور ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معلوم نہیں کہ شادی کے بعد مرد حضرات کس وقت ان سے بے وفائی پر اتر آئیں ۔اور دوسری شادی کر کے پہلی بیوی کو بے سہارا چھوڑ دیں ۔
اسی طرح کسی اور وجہ سے بھی عورت اپنی معاشی کفالت کا آزاد انتظام ضروری سمجھتی ہے ۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں