بدعت کی اصطلاحی تعریف:دین اسلام میں ثواب کی نیت سے کسی چیز کا اضافہ جس کی مشروعیت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو بدعت کہلاتا ہے ۔آپﷺکا ارشاد ہے:من احدث فى امرنا هذا ما ليس منه فهو رد.(متفق عليه)
جنازہ اور میت کے بارے میں سارے لوگ جہالت اور اندھی تقلید میں پڑے ہیں ۔فرض کو چھوڑ کر بدعت کی راہ اختیار کر رہیں ہیں جو کہ گمراہی کی راہ ہیں اور یہ راستہ جہنم کا راستہ ہے ۔
آج معاشرے میں جو میت کے ساتھ بدعتیں کی جاتی ہیں وہ چند یہ ہیں:-
1-موت سے غافل ہوجانا: موت کو یاد نہ کرنا حالانکہ موت ایک نصیحت ہے۔
2-وصیت لکھنے کا کوئی اہتمام نہ کرنا : لوگ وصیت لکھنے کا کوئی اہتمام نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی لکھنا چاہتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ موت بہت دور ہے ابھی سے مرنے کی کیا فکر کررہے ہو وغیرہ ۔جبکہ آپﷺوصیت لکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔
3-واجب چھوڑ کر بدعت کی طرف لپکنا:مردے کو دفن کرنے کے بعد لوگ فورا تعزیت اور دعوت کی طرف دوڑپڑتے ہیں ۔مردے کی وصیت اور اس کا قرض پورا کرنے سے غافل ہوجاتے ہیں ۔معلوم ہونا چاہیے کہ قرض کی وجہ سے مومن کی روح معلق رہتی ہے ۔
4-قرآن خوانی کرانا اور سورہ یاسین کا خاص پڑھنے کا انتظام کرنا:کی وفات سے لیکر اس کی تجہیز وتکفین تک قرآن خوانی کرنا یا اسی طرح روح قبض کے وقت سورہ یاسین کا ختم کرانا،اس کے لئے کرایہ پر پڑھنے والوں کو طلب کرنا۔
5-نوحہ کرنا ،چیخنا، چلانا،گریبان پھاڑنا،منہ نوچنااور اللہ کی تقدیر پر اعتراض کرنا ۔
6-قبرستان میں فرض نماز ادا کرنا: آپ ﷺسے صریح حدیث مروی ہے:میرے لیے ساری روۓ زمین مسجد بنائی گئی ہے سواۓقبرستان اور حمام کے۔اسی طرح دوسری حدیث ہے آپ ﷺنے فرمایا قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا، دعا کرنا،قرآن پڑھنا یہ سب شرک کے وسائل میں سے ہیں، البتہ جنازہ کی نماز قبرستان میں پڑھی جاسکتی ہے ۔
7-تاخیر سے جنازہ ادا کر نا:بعض لوگ اپنے قریبی رشتے داروں کے انتظار میں یا ختم قرآن کے انتظار میں جنازہ میں تاخیر کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں سنت یہ ہے کہ جنازہ میں جلد بازی سے کام لیا جائے اور رشتہ دار وغیرہ جب پہنچیں تو قبر پر جا کر نماز جنازہ ادا کر لیں ۔
8-جنازہ کی نماز کے طریقے سے غافل ہونا۔
9-جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا۔
10-جنازے کے بارے میں غفلت برتنا اور اس کے اجروثواب کی پرواہ نہ کرنا ۔آپ ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص جنازہ میں حاضر ہوا اورنماز ادا کی تو اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو دفن تک حاضر رہا تو اس کے لئے دو قیراط ہے پوچھا گیا دو قیراط کیا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا:دو بڑے پہاڑ کی مانند۔
11-چار ماہ سے زائد کا حمل گرجانے پر جنازہ ادا نہ کرنا۔4سے زائد ماہ کے حمل میں روح پھونک دی جاتی ہےاس لئے بہتر یہ ہے کہ اسے غسل دیا جائے، اس کی جنازہ پڑھی جاۓ اور مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کیا جائے ۔البتہ چار ماہ سے قبل پر جنازہ نہیں ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں