┄┅════❁﷽❁════┅┄
📖 *تلبیـسِ الحـــــــ🔥ـــــاد*
✒پوسٹ نمبـــــر : *20
▩ *سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس*▩
✏ڈاکٹر جولے سمپسن (امریکہ) کے بیلور کالج آف میڈیسن میں شعبہ حمل و زچگی و امراض نسوانی (ob-gyn) کے چیرمین اور سالماتی و انسانی توارت کا پروفیسر ہے، پروفیسر سیمپسن نے نبی کریم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل دو احادیث کا مطالعہ کیا جو صحیح بخاری اور مسلم دونوں میں ہے کہ :
*⬅نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزاء اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک (نطفے کی صورت) میں جمع رہتے ہیں جب نطفہ قرار پائے بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں، تو اللہ ایک فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو (اللہ کے حکم) سے اس کی شکل و صورت بناتا ہے اور اس کے کان، اس کی آنکھیں، اس کی جلد، اس کا گوشت، اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے "*
*🦠پروفیسر سمپسن نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ جنین کے پہلے چالیس دن اس کی تخلیق کے ناقابل شناخت مرحلے پر مشتمل ہوتے ہیں-*
🎙رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث سے پروفیسر سیمپسن بہت متاثر ہوئے اور ایک کانفرنس کے دوران درج ذیل اپنے تاثرات پیش کیے:
*📖💯" دونوں احادیث جو مطالعے میں آئی ہیں وہ ہمیں پہلے چالیس دنوں میں بیشتر جنینی ارتقاء کا متعین ٹائم ٹیبل فراہم کرتی ہیں اور یہ بھی کہ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو صدیوں بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ قرآن میں دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں☑
🐝مکھی کے ایک پر میں بیماری ، دوسرے میں شفا :
📖سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اگر تم میں سے کسی کے مشروب ( پانی ، دودھ وغیرہ ) میں مکھی گر پڑے تو اسے چاہئے کہ اس کو مشروب میں ڈبکی دے ، پھر اسے نکال پھینکے ، کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ہے"(بخاری)
🧪ڈاکٹر محمد محسن خاں اس ضمن میں لکھتے ہیں : *” طبی طور پر اب یہ معروف بات ہے کہ مکھی اپنے جسم کے ساتھ کچھ جراثیم اٹھائے پھرتی ہے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے بیان فرمایا جب انسان جدید طب کے متعلق بہت کم جانتے تھے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ عضوےے ( Organisms ) اور دیگر ذرائع پیدا کئے جو ان جراثیم ( Pathogenes ) کو ہلاک کر دیتے ہیں ، مثلاً پنسلین پھپھوندی اور سٹیفائلو کوسائی جیسے جراثیم کو مار ڈالتی ہے ۔ حالیہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مکھی بیماری ( جراثیم ) کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کا تریاق بھی اٹھائے پھرتی ہے ۔ عام طور پر جب مکھی کسی مائع غذا کو چھوتی ہے تو وہ اسے اپنے جراثیم سے آلودہ کر دیتی ہے لہٰذا اسے مائع میں ڈبکی دینی چاہئے تا کہ وہ ان جراثیم کا تریاق بھی اس میں شامل کر دے جو جراثیم کامداوا کرے گا ۔*
*🐝میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس موضوع پر جامعۃ الازہر قاہرہ ( مصر ) کے عمید قسم الحدیث ( شعبہ حدیث کے سربراہ ) محمد السمحی کو خط بھی لکھا جنہوں نے اس حدیث اور اس کے طبی پہلوؤں پر ایک مضمون تحریر کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ماہرین خردحیاتیات (Microbiologists ) نے ثابت کیا ہے کہ مکھی کے پیٹ میں خامراتی خلیات ( Yeast Cells ) طفیلیوں ( Parasites ) کے طور پر رہتے ہیں اور یہ خامراتی خلیات اپنی تعداد بڑھانے کے لئے مکھی کی تنفس کی نالیوں ( Repiratory Tubules ) میں گھسے ہوتے ہیں اور جب مکھی مائع میں ڈبوئی جائے تو وہ خلیات نکل کر مائع میں شامل ہو جاتے ہیں ، اور ان خلیات کا مواد ان جراثیم کا تریاق ہوتا ہے جنہیں مکھی اٹھائے پھرتی ہے-* ( مختصر صحیح البخاری )( انگریزی ) مترجم ڈاکٹر محمد حسن خاں ، ص : 656 حاشیہ : 3 )
📖اس سلسلے میں ” الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم لابن القیم “ کے انگریزی ترجمہ : Healing with the Madicine of the Prophet طبع دارالسلام الریاض میں لکھا ہے :
🔶نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مکھی خوراک میں گر پڑے تو اسے اس میں ڈبویا جائے ، اس طرح مکھی مر جائے گی ، بالخصوص اگر غذا گرم ہو ، اگر غذا کے اندر مکھی کی موت غذا کو ناپاک بنانے والی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھینک دینے کا حکم دیتے اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محفوظ بنانے کی ہدایت کی ۔ شہد کی مکھی ، بھڑ ، مکڑی اور دیگر کیڑے بھی گھریلو مکھی کے ذیل میں آتے ہیں-
═════════════
📜☜سـلسلہ جاری ہیں ۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں