مشہور اشاعتیں

پیر، 20 جولائی، 2020

محبت رسول کے تقاضے ۔۔۔

                   کاتبہ:آسیہ محمدیلَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ  لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ  الۡاٰخِرَ  وَ ذَکَرَ  اللّٰہَ  کَثِیۡرًا (سورہ احزاب:۲۱)
      یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتا ہے ۔۔
       کائنات ارض وسماءمیں جو مقام محمد ﷺکو حاصل ہے وہ کسی اور کو اللہ نے عطا نہیں کیا۔محبت رسول ایمان کے اصولوں میں سے ایک عظیم اصل ہے یہ اصل سنت نبوی کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے جو روحوں کی غذا، دلوں کی شفاء اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔اللہ تبارک و تعالی نے اپنے رسول سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا قُلۡ  اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿آل عمران :۳۱﴾ اے نبی! ‍‍‍‍‍‍آپ کہہ دیں اگر تم کو اللہ کی محبت ہے تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ کو بخش دے گا اللہ بخشنے والا  مہربان ہے ۔۔
      ◀️   مسلمان اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک اس کے دل میں رسول کی محبت سب سے زیادہ نہ ہو ۔۔رسول سے محبت اللہ کی وجہ سے اور اس کی اتباع و اطاعت کی وجہ سے کی جائے ۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ والدہ والناس اجمعین(بخاری)"  تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں" ۔۔
     ◀️     مسلمانوں! ہم میں سے کون ہیں جسے رسول اللہ ﷺ سے محبت نہیں؟ سبھی محبت کے دعویدار 'سبھی اللہ کے رسول سے والہانہ محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں،یہ محبت کادعوی تو بجا ہے مگر صرف زبانی جمع و خرچ سے کچھ نہیں ہوتا اس لئے نصوص  کے آئینہ میں خود کو دیکھیں کہ ہم کہاں تک محبت رسول کے دعوے میں سچے ہیں اور کہاں تک اس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں ۔

      🔴   محبت رسول کا تقاضا ہے کہ آپﷺ کی اتباع ہو اور اطاعت کامل ہو جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے ..وَ مَا کَانَ  لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ  اِذَا قَضَی اللّٰہُ  وَ رَسُوۡلُہٗۤ  اَمۡرًا اَنۡ  یَّکُوۡنَ  لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ  مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ  فَقَدۡ  ضَلَّ  ضَلٰلًا  مُّبِیۡنًا ﴿ؕسورہ احزاب:۳۳﴾ اور  ( دیکھو )  کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا   ( یاد رکھو )  اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی  جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا ۔  
      آدمی سنت رسول کو ہی حکم اور فیصلہ مانے اسکے سامنے اپنے مقدمات پیش کرے اور اپنے اقوال،افعال اور احکامات کو پرکھنے کے لئے سنت کو میزان بناۓ۔فرمان باری ہے فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی  یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ  بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ  لَا  یَجِدُوۡا فِیۡۤ  اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا  مِّمَّا قَضَیۡتَ  وَ یُسَلِّمُوۡا  تَسۡلِیۡمًا ﴿سورہ النساء:65﴾ سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے  ، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ..    
 🔴 محبت رسول کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ دین کی نشر واشاعت اور خالص سنت کو عام کیا جائے ۔کیونکہ جو آپ سے محبت کرنے والا ہوگا وہ اپنے عمل سے پہچانا جاۓگا وہ ہر میدان میں آپ کا پیروکار اور متبع ثابت ہوگا ۔۔۔
آپﷺ کی ذات کے ساتھ آپﷺکی سنتوں سے محبت ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :من احب سنتی فقد احبنی و من احبنی کان معی فی الجنۃ۔جس نے میری سنتوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جو مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔۔ 
مقام نبوت اور رسالت اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ کی تعظیم و توقیر کی جاۓ آپ کا ادب کرنا محبت رسول کی نمایاں دلیل ہے۔
اِنَّاۤ  اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا  ۙ﴿۸﴾لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ  وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ  بُکۡرَۃً  وَّ اَصِیۡلًا ﴿۹﴾سورہ فتح یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ۔ تاکہ  ( اے مسلمانو ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام ۔  

         مسلمانوں! محبت رسول کا تقاضا یہ نہیں کہ غیر مسنون طریقے سے درود یا سلام پڑھا جائے بلکہ نبی سے محبت رکھو انکی تعریف بیان کرو ۔مسنون طریقہ سے ان پر رحمتیں بھیجتے رہو۔۔قرآن و حدیث میں سختی کے ساتھ غلو سے روکا گیا ہے آپ کی ذات میں غلو کرنا آپ سے محبت کا دعوی نہیں بلکہ آپ کے فرامین کی نافرمانی اور محبت کی شکل میں آپکی سنتوں سے بغض و عداوت کرنا ہے ۔۔
    آپ صحابہ کی زندگیوں پر نظر ڈالیں کہ انہوں نے محبت رسول کا حق کیسا ادا کیۓ ۔۔رسول ﷺ کے حیات طیبہ کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جسمیں انہوں نے نبی کے اقوال کو غور سے نہ سنا ہو یا اعمال کو غور سے نہ دیکھا ہو اور پھر من و عن ان پر عمل کرنے کی کوشش نہ کی ھو۔۔لیکن ہم اپنے چال وڈھال میں یہود و نصاری کی تہذیب اپنا رہیں ہیں اور آپ ﷺ کی تہذیب پس پشت ڈال کر کیا ہم محبان رسول کہلائیں گے۔۔محب اپنے چال وڈھال اور رفتار وگفتار میں اپنے محبوب سے ہم رنگی اور مشابہت کی بہت کوشش کرتا ہے ۔۔ہم محبان رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں اور ان کی سنتوں کو زندہ رکھیں ۔۔
دعا ہیکہ اللہ ہمیں اپنی رضامندی کے راستوں پر چلائے اور اپنی اور اپنے محبوب رحمۃ للعالمین کی محبت سے سرشار رکھے اور سنت رسول کو زندہ رکھنے والوں میں بناۓ۔۔آمین ۔۔

9 تبصرے:

میت کے ساتھ کی جانے والی بدعتیں ۔

  بدعت  کی اصطلاحی تعریف :دین اسلام میں ثواب کی نیت سے کسی چیز کا اضافہ جس کی مشروعیت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو بدعت کہلاتا ہے ۔آپﷺکا ارشاد ہے...