💢قومی جھنڈے کو سلامی دینا💢
سوال(93- 139):کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ١٥/اگست ( یوم آزادی ) و ٢٦ /جنوری ( یوم جمہوریہ )کے موقع پر اسکول کے مسلم طلبہ و طالبات احتراماً کھڑے ہوکر عقیدت کے ساتھ جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں ،تواس طرح جھنڈے کو سلامی دینا اسلام میں کہاں تک درست ہے ؟ امید کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں گے ۔
جواب: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں :
”مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ، كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لاَ يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ “(رواه احمد والترمذي، وقال: حسن صحيح غريب)
یعنی صحابہ کرام کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں تھا ، مگر کبھی وہ لوگ آپ کو دیکھ کر تعظیماً کھڑے نہیں ہوتے تھے ، اس لئے کہ وہ اس پر آپ کی کراہت کو جانتے تھے ۔
اورابو امامۃ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ لاٹھی پر ٹیک لگاتے ہوئے تشریف لائے ، ہم لوگ آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے تو آپ نے فرمایا :
”لاَ تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا“(رواه احمد وابوداؤد)
جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں اس طرح تم لوگ تعظیم میں مت کھڑے ہو۔
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ قیام تعظیمی کسی کے لئے بھی صحیح نہیں ہے، حتی کہ سید المرسلین وامام الاولین و الآخرین وخاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے لئے بھی درست نہیں تو پھر جھنڈا جیسے غیر جاندار چیز کی تعظیم کے لئے قیام کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ اس لئے کوئی مجبوری و اکراہ نہ ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
مگر بعض اوقات اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں پر غداریٔ وطن اور قومی پرچم کی بے حرمتی وغیرہ کے الزام عائد کئے جاتے ہیں اس کے لئے ایک تو مسلم قائدین کو کوشش کرنی چاہئے اور ذمہ داران حکومت و برادران وطن کے سامنے یہ مسئلہ رکھنا چاہئے کہ اس میں نہ پرچم کی بے حرمتی ہے اور نہ وطن سے غداری ، بلکہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم اس سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں اس سلسلہ میں مسلمانوں کے لئے رعایت ہونی چاہئے ۔
دوسرے یہ کہ جب تک رعایت نہیں ملتی اس وقت تک جہاں فتنے کا خوف اورمجبوری نہ ہو وہاں احتراماً کھڑے ہوکر اور عقیدت سے ہاتھ اٹھا کر جھنڈے کو سلامی دینے سے اجتناب کرنا چاہئے، اور جہاں فتنے کا خوف اور مجبوری ہو وہاں بغیر تعظیم کی نیت کئے ہوئے کھڑاہونا چاہئے، ایسی صورت میں بلاتعظیم کی نیت کئے ہوئے کھڑاہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ مجبوری کی صورت میں زبان سے کلمۂ کفر نکالنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ دل ایمان پر مطمئن ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَان﴾( النحل:106)
جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے ایمان لانے کے بعد (تو وہ مرتد ہوگا ) مگر یہ کہ وہ اس پر مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔
نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد اول، صفحہ ٣١٤۔
•••═══ ༻✿༺═══ ••
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں